Wednesday, March 29, 2023

میچ کے دوران مداح کا نسیم شاہ سے دلچسپ سوال ، ویڈیو وائرل


 

شارجہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوران مداح نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باولر نسیم شاہ سے دلچسپ سوال پوچھ لیا۔

نسیم شاہ فیلڈنگ پر کھڑے تھے تو اسٹینڈ میں موجود ایک مداح نے شادی سے متعلق سوال کیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ویڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ مداح سوال کرتا ہے کہ نسیم بھائی شادی کب کر رہے ہیں۔جس پر نسیم شاہ نے ہاتھوں کے اشاروں سے جواب دیا۔ویڈیو میں فاسٹ باولر کے جواب کہ بعد شائقین کرکٹ کو ہستے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز میں افغانستان نے پاکستان کو دو ایک سے شکست دی تھی۔سیریز کے ابتدائی دونوں میچز افغانستان کی ٹیم کے نام رہے تھے جبکہ تیسرا میچ پاکستان نے جیتا تھا۔

عمر اکمل کے ساتھ زیادتی ہوئی، بابر کپتان ہے،دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، کامران اکمل پہلی بار کھل کر بول پڑے


 

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کرکٹر کامران اکمل اپنے چھوٹے بھائی عمر اکمل کے دفاع میں بول اٹھے۔

رمضان کرکٹ ٹورنامنٹ کے دوران مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کامران اکمل نے کہا کہ عمر اکمل کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے، اس کے ساتھ زیادتی ہوئی، میرے خیال میں زیادتی ایک حد تک ہونی چاہیے کہ اگلے بندے کو سبق حاصل ہو، سائیڈ لائن کردینا سمجھ سے باہر ہے۔سلیکشن کمیٹی، ٹیم مینجمنٹ یا کوئی کوچ نیا آتا ہے، بابر کپتان ہے، اس سمیت ان سب نے ٹیم بنانی ہے، کپتان پر منحصر ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، آنے والی سیریز میں پرامید ہوں کہ جب سب کو موقع دیا ہے تو اس کو بھی دیا جائے گا، جب عماد وسیم کا کم بیک ہوا ہے تو عمر کا بھی ہوگا۔

کامران اکمل نے کہا کہ عمر قومی ٹیم میں آنے کا اہل ہے، ورلڈکپ اور ایشیاءکپ قریب ہے، میرے خیال میں ٹیم کے مڈل آرڈر کو عمر اکمل جیسے کھلاڑی کی ضرورت ہے، عمر نے ہمیشہ ٹیم کے لیے کھیلا ہے۔

انہوں نے عمر اکمل کی انٹرنیشنل کرکٹ میں پابندی کے بعد میدان میں شاندار طریقے سے واپسی پر کہا کہ  اس کی واپسی بہت مشکل تھی جس کے لیے اس نے برسوں جدوجہد کی۔

کامران اکمل سابق کرکٹر نے یہ بھی کہا کہ عمر کو پی ایس ایل میں کم موقع ملا، کوئٹہ کے لیے جب بھی وہ بیٹنگ کرنے آتا کم گیندیں باقی رہتی تھیں، اس میں بھی اس نے پورا پرفارم کرنے کی کوشش کی۔

رانا ثنااللہ نے عمران خان کو براہ راست دھمکی دی، عدلیہ نوٹس لے، پی ٹی آئی رہنما

 


پی ٹی آئی کے سینئر نائب صدر فواد چوہدری اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کو ان کے اس بیان پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان مسلم لیگ(ن) کے صرف سیاسی حریف نہیں بلکہ دشمن ہیں اور یہ کہ دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان دشمنی اس مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں دونوں میں سے صرف ایک ہی زندہ رہ سکتا ہے۔

گزشتہ روز پی این این نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ میرے خیال میں عمران خان جمہوریت اور جمہوری روایات پر یقین نہیں رکھتے، وہ اس ملک میں پرامن سیاسی ماحول پر یقین نہیں رکھتے اور سیاست کو دشمنی میں بدل دیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ ہمیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں جبکہ ہم پہلے اسے اپنا سیاسی حریف سمجھتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ صورتحال اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ ہم بھی سوچتے ہیں کہ وہ ہمارے دشمن ہیں۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ جمہوری روایات، بروقت انتخابات اور صحیح و غلط جمہوریت اور سیاست کا حصہ ہیں لیکن دشمنی میں نہیں، عمران خان کہتا ہے کہ ہم اسے قتل کرنا چاہتے ہیں تو اگر وہ کہتا ہے کہ ہم اسے قتل کرنا چاہتے ہیں تو اگر ایسا ہے تو وہ ہمیں بھی قتل کرنا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یا تو انہیں یا ہمیں قتل کیا جائے گا، اب وہ ملک کی سیاست کو ایک ایسے موڑ پر لے گئے ہیں جہاں دو میں سے صرف ایک ہی رہ سکتا ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر ہمارے وجود کی نفی ہو گی تو میں کسی بھی حد تک جاؤں گا، انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں یہ سوچنا غیر متعلقہ ہو جائے گا کہ کیا کیا جا سکتا ہے یا کیا نہیں، کوئی چیز جمہوری ہے یا نہیں، آیا کوئی چیز اصولی ہے یا نہیں۔

جب پروگرام کے میزبان نے ان سے کہا کہ اس طرح کے بیان کے نتیجے میں انتشار پھیل سکتا ہے تو وزیر داخلہ نے کہا کہ انتشار پہلے ہی موجود ہے، انارکی کے علاوہ اور کیا ہے؟۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس صورتحال سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ ہے اور کیا عمران کی گرفتاری سے دشمنی میں کمی ہو سکتی ہے تو وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ معاملہ اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں، یا تو ان کی سیاست ختم ہو گی یا ہماری۔

انٹرویو کے ویڈیو کلپس آن لائن زیر گردش کرنے کے بعد فواد چوہدری نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ رانا ثنااللہ کے بیان نے پہلے سے معلوم اس حقیقت کی تصدیق کی وہ اور ان کی پارٹی جمہوری نہیں ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے ایک علیحدہ پریس کانفرنس کے دوران سوال کیا کہ آپ کوئی گینگ چلا رہے ہیں یا سیاست کر رہے ہیں؟، سپریم کورٹ مسلم لیگ(ن) کو سسیلین مافیا کہنے میں بالکل حق بجانب تھی۔

انسانی حقوق کی سابق وزیر شیریں مزاری نے بھی رانا ثنااللہ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے عدلیہ پر زور دیا کہ وہ پی ٹی آئی چیئرمین کو وزیر داخلہ کی ’براہ راست دھمکی‘ کا نوٹس لے۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ اگر کسی کو رانا ثنا کے عمران خان کے خلاف قاتلانہ عزائم پر کوئی شک ہے تو یہ بدمعاش وزیر داخلہ کی سیدھی دھمکی ہے، عدلیہ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما مراد سعید نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کھلم کھلا عمران کو ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیتِ سابق وزیراعظم عمران خان کو سیکیوریٹی نہیں مہیا کی گئی، پرائیوٹ سیکیورٹی کمپنی کو بھی سیکیورٹی ہٹانے کا مراسلہ جاری کردیا گیا ہے، جرائم پیشہ شخص جس کو ملک کا وزیرداخلہ بنا دیا گیا ہے، وہ کھل کر عمران خان کو ختم کرنے کی صرف بات نہیں کررہا بلکہ گھناؤنے منصوبے پر عمل درآمد بھی جاری ہے۔

خیبرپختونخوا کے سابق وزیر خزانہ تیمور خان جھگڑا نے سوال کیا کہ کیا مسلم لیگ(ن)، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ، پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی ثنااللہ کے بیان کی مذمت کریں گی؟۔

پی ٹی آئی کے رہنما شفقت محمود نے کہا کہ حکومت کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ آیا اس کے اقدامات جمہوری تھے یا نہیں کیونکہ اس کا ارادہ عمران خان کو کچلنے کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رانا ثنااللہ خواب دیکھتے رہیں اور اگلے انتخابات میں سیاسی طور پر صفایا ہونے کے لیے تیار رہیں۔

قومی اسمبلی نے عدالتی اصلاحات کا بل اتفاق رائے سے منظور کر لیا

قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر یعنی عدالتی اصلاحات کا بل 2023 اتفاق رائے سے منظور کر لیا ہے۔

بدھ کو منظور ہونے والے اس بل کے تحت کسی بھی معاملے پر ازخود نوٹس لینے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے تین سینیئر ترین ججز کریں گے۔

 قومی اسمبلی نے وکلا بہبود و تحفظ بل 2023 بھی منظور کر لیا ہے۔ 

بل کی منظوری سے پہلے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت تحمل کا مظاہرہ کرتی رہی یہاں تک کہ عدالت کے اندر سے آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں۔ ملک کی چھ بار کونسلز نے اس بل کی حمایت کی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’کیا مسئلہ ہے کہ ہر بار تین ججوں کو بینچ میں بٹھا کر فیصلے صادر کیے گئے۔ چار سال پہلے فل کورٹ میں یہ ایجنڈا تھا اور اس پر بحث بھی ہوئی۔‘

’ابہام دور کرنے کے لیے پارلیمان اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے گا۔ ادارے شخصیات سے نہیں نظام سے مضبوط ہوتے ہیں۔ یہ قانون سازی آئین پاکستان کے مطابق ہے۔‘

اس سے قبل منگل کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں عدالتی اصلاحات کے مسودے کی منظوری دی گئی۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں عدالتی اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔

 عدالتی اصلاحات کے بل میں تجویز دی گئی ہے کہ ’سپریم کورٹ کے تین سینیئر ترین جج ازخود نوٹس کا فیصلہ کریں گے۔‘

مسودے کے مطابق ازخود نوٹس کے خلاف 30 روز کے اندر اپیل کا حق بھی دیا جائے گا اور اپیل دائر ہونے کے بعد اسے 14 دن کے اندر سماعت کے لیے مقرر کرنا ہوگا۔

مسودے میں تجویز دی گئی ہے کہ بینچ کی تشکیل بھی چیف جسٹس پاکستان اور دیگر دو سینیئر ترین ججز مل کر کریں گے۔

کابینہ کی منظوری کے بعد منگل ہی کو قومی اسمبلی نے سیاسی معاملات میں عدلیہ کی ’بے جا مداخلت‘ کے خلاف قرارداد منظور کی۔

قرارداد وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ایوان میں پیش کی۔ قرار داد میں کہا گیا کہ ’یہ ایوان عدالیہ کی مداخلت کو سیاسی عدم استحکام کا باعث سمجھتا ہے۔ یہ ایوان چار ججز کے فیصلے پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے توقع کرتا ہے اعلیٰ عدلیہ سیاسی و انتظامی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے گی۔ 

میچ کے دوران مداح کا نسیم شاہ سے دلچسپ سوال ، ویڈیو وائرل

  شارجہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوران مداح نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باولر ...